Yaad Mazii


محبت کرنے والوں کی تجارت بھی انوکھی ہے

منافع چھوڑ دیتے ہیں خسارے بانٹ لیتے ہیں

فیض

زندگی کی جو بہاریں اپنے جوبن پر یاد ہیں ان میں وہ دن شامل ہیں جب میں ننھے کو سکول چھوڑنے اور سکول سے لینے گھر واپس آنے کی ڈرائیو کو پرائوڈلی انجوائے کرتا تھا۔

Year wise this era had been spread among 1969 to 1972

میرے کنٹرول میں اس وقت ٹویوٹا کورولا کار ہوتی تھی یہ زمانہ یاد ہے شہر میں بہت کم کاریں سڑکوں پر ہوتی تھیں میرے عظیم فادر چوھدری علی محمد صاحب نے یہ کار گھر میں ڈرائیور کے علاوہ میرے استعمال میں بھی دی ہوئی تھی۔ اس کے فیول کے لئے کوہ نور کے پاس والے فیول سٹیشن کے کوپن والی کاپی کار کے گلیوز میں ہوتی تھی ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں فیول, کار میں لینے کے بعد کوپن سائین کرنے اور فیول سٹیشن کو اشو کرنے کے فخر سے سرشار ہوتا تھا۔


One response to “Yaad Mazii”

Leave a Reply